گورکھپور ، 24 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پی ایم نریندر مودی نے گورکھپور میں’ کسان سمان ندھی منصوبہ‘ کو لانچ کرتے ہوئے ایک طرف کسانوں سے خطاب کیا تو دوسری طرف اپوزیشن پر بھی تیکھے حملے کئے۔وزیر اعظم نے 1 کروڑ 1 لاکھ کسانوں کو 2۔2 ہزار روپے کی پہلی قسط جاری کرتے ہوئے اسکیم کی شروعات کی۔پی ایم مودی نے اسکیم کے فوائد گناتے ہوئے کہا کہ اس کی منصوبہ بندی کے بارے میں جب ہمارے مخالفین نے پارلیمنٹ میں سنا تو چہرے لٹک گئے تھے۔مہاملاوٹي لوگ پریشان ہو گئے اور اب افواہیں پھیلا رہے ہیں،مجھے لگتا ہے کہ یہ ان کی پیدائشی فطرت ہے،اب انہوں نے ایسی افواہ پھیلائی ہے کہ مودی نے ابھی تک 2000 روپے دیے ہیں، پھر آئے گا، لیکن سال بھر کے بعد اسے واپس لے لے گا۔
پی ایم مودی نے اپوزیشن پارٹیوں کی ریاستی حکومتوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کسانوں کی فہرست نہیں سونپتے ہیں تو پھراناج پیداکرنے والوں کی بددعا سے وہ تباہی ہو جائیں گے۔پی ایم مودی نے کہاکہ میں اتراکھنڈ، اترپردیش، گجرات، بہار اور مہاراشٹر جیسی حکومتوں کومبارکباد دیتا ہوں، جنہوں نے ترجیح دی،ایسی بھی بہت سی حکومتیں ہیں، جن کی نیند ابھی کھلی نہیں ہے،میں ایسی ریاستی حکومتوں کو انتباہ دیتا ہوں کہ اگر آپ نے فہرست نہیں پہنچائی تو کسانوں کی بددعا آپ کو تہس نہس کر دے گی۔
پی ایم مودی نے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو پیسہ دیا جا رہا ہے، آپ کے حق کا ہے،کوئی اسے واپس نہیں لے سکتا ہے،نہ مودی اور نہ ہی ریاستی حکومت،ایسی افواہ پھیلانے والوں کو منہ توڑ جواب دے دینا۔
قرض معافی کو لے کر کانگریس حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ وہ قرض معافی کی ریوڑی بانٹ کر آنکھ میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں لیکن، انہیں مودی ملا ہے، مہنگا پڑ جائے گا،ان کی پول کھول کر کے رکھ دے گا،اس اسکیم کا جب ہم نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تو ان کے چہرے لٹکے تھے،ہم نے بجٹ میں پیسوں کی فراہمی کرکے اعلان کیا ہے۔
پی ایم مودی نے 2009 کے عام انتخابات سے پہلے کانگریس کی طرف سے کسان قرض معافی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کے حساب سے ملک میں کسانوں کی کل قرض 6 لاکھ کروڑ روپیہ تھا،اب انہوں نے قرض معافی کا اعلان کیا تو یہ معاف ہونا چاہیے تھا، لیکن 2009 میں انتخاب ہوا اور کرسی سے چپک گئے،ریموٹ چالو ہو گیا،معاف ہوا تھا صرف 52000 کروڑ،ملک کو اندھیرے میں رکھا گیا۔پی ایم مودی نے کہا کہ اس وقت سے فائدہ اٹھانے والوں میں 35 لاکھ لوگ تو ایسے تھے، جن کا فصل سے لینا دینا ہی نہیں تھا،آپ سپہ سالاروں کو ہی پیسے بانٹ دئے،ہم جو منصوبہ لائے ہیں، اس سے ہر سال 75000 کروڑ روپیہ کسانوں کے اکاؤنٹ میں جمع کرے گا،10 سال میں انہوں نے 52.000 کروڑ روپے دیے تھے، ہم ساڑھے سات لاکھ کروڑ روپے دیں گے۔
پی ایم مودی نے قرض معافی نہ کرنے کو لے کر کہا کہ ہمارے لئے بھی قرض معافی آسان تھی،ریوڑی بانٹ دیتے، کھیل کھیل لیتے لیکن مودی ایسا نہیں کرتا،ہماری حکومت وزیر اعظم آبپاشی منصوبہ بندی پر ہی ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔اس اسکیم پر پیسہ لگا رہے ہیں کہ ملک کی آب پاشی کے منصوبوں کو پورا کیا جا سکے، جو 40۔40 سال سے لٹکے ہوئے تھے،ہم نے 99 اس طرح کے منصوبوں کے لیے منتخب کیا تھا، جن میں سے 70 منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی پروگرام کے آغاز ایک کروڑ ایک لاکھ سے زیادہ کسانوں کو 2000 روپے کی پہلی قسط جاری کی۔پی ایم مودی نے ایک کلک میں ہی کسانوں کو 2021 کروڑ روپے کی رقم جاری کی۔اس کے علاوہ باقی کسانوں کے اکاؤنٹ میں بھی پہلی قسط کے کچھ ہفتے میں ہی پہنچنے کا بھروسہ دلایا۔اس منصوبہ سے 12 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو سالانہ 6000 روپے کی سالانہ گارنٹی آمدنی ملے گی،یہ رقم تین قسطوں میں کسانوں کو جاری کی جائے گی۔